باسی[1]
معنی
١ - رات کا بچا ہوا، رات بسے کا، رات کا یا اس سے پہلے کا رکھا ہوا (کھانا یا پھول وغیرہ) ہمیشہ اک نئے عاشق کی رہتی ہے تلاش ان کو کہ باسی ان کے دسترخوان پر کھانا نہیں آتا ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ١٧ ) ٢ - [ استعارۃ ] مرجھایا ہوا۔ "بال بکھرے ہوئے ہیں اور چہرہ باسی ہے، آنکھیں بھاری۔" ( ١٩٢٢ء، انارکلی، ٨٣ )
اشتقاق
سنسکرت میں اصل 'واسر' ہے اردو زبان میں اس سے ماخوذ 'باسی' مستعمل ہے اور بطور اسم صفت استعمال کیا جاتا ہے۔ ١٦٤٩ء میں "ہاشم علی"" کے ہاں مستعمل ہے۔
مثالیں
٢ - [ استعارۃ ] مرجھایا ہوا۔ "بال بکھرے ہوئے ہیں اور چہرہ باسی ہے، آنکھیں بھاری۔" ( ١٩٢٢ء، انارکلی، ٨٣ )